جاوید ہاشمی کو سن کے مجھے میرے نانا یاد آگئے

آج جاوید ہاشمی کو سن کر مجھے میرے نانا بڑے یاد آئے
وہ بڑے ہی محنتی انسان تھے سر توڑ محنت کر کے اپنے اور اپنے بہن بھائیوں کو زندگی کے سفر میں آگے لے کر نکلے
چھوٹی عمر میں بہت بڑے بن کر ہر قسم کی محنت کی اور جان پر کھیل کر بھی تک و دو کرتے رہے
اللہ نے انہیں اس محنت اور نیکیوں کے صلے میں بہت نوازہ بھی ۔ ۔
پھر جب وہ ریٹائر ہوئے اور عمر کی اس اسٹیج پر پہنچے
جہاں دوستوں میں جا کر بیٹھنا یا ٹی وی دیکھ لینا یا اخبار پڑھ لینے یا پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیل لینے کے علاوہ وہ سب کرنے کو نہیں رہا۔ ۔ ۔
جو کریٹوٹی ۔ ۔ ۔ اور ٹیکنکل سوچ اور اپروچ اُن کی جوانی میں تھیں ۔ ۔ ۔
تو وہ بھی اپنے آپ میں ایک فسٹریشن کا شکار ہوئے ۔ ۔ ۔
اُنہیں بھی لگا کے جیسے اُن کی کی گئی ساری محنت پیچھے کھیں رہ گئی ۔ ۔ ۔ اور بچے آگے نکل گئے ۔ ۔ ۔
اُنہیں بھی ایسی غلط فہمی تھی کہ جیسے ہم اُن کی محنت اور تک و دو اور قربانیوں سے واقف نہیں ۔ ۔ ۔
تو وہ بھی ایسے ہی روٹھ جایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔
کوئی بات نہ بھی ہو تو وہ روٹھ جاتے تھے ۔ ۔ ۔
میں نے ایک چیز نوٹ کی کے نانا کے گھر جا کر جب نانا کے پاس بیٹھتے ۔ ۔
تو نانا بہت خوش ہوتے تھوڑی دیر پہلے تک جو اُداس دیکھ رہے ہوتے تھے ۔ ۔ ۔
اور بیمار بیمار سے دیکھائی دیتے تھے ۔ ۔
اُنہیں ٹھیک کرنا کا سب سے اچھا حل ۔ ۔ ۔
کوئی بڑا ڈاکٹر یا دوا نہیں
بلکہ اُن کے ساتھ جا کر بیٹھ جائیں ۔ ۔ ۔
اور خاموشی سے اُن کی باتیں سنتے رہیں۔ ۔ ۔
دو، چار، گھنٹے جتنی بھی دیر نانا کے ساتھ بیٹھتی ۔ ۔ ۔ بات کہیں سے بھی شروع ہو۔ ۔ ۔
وہ نصحتوں شکایتوں کے بعد ۔ ۔ ۔ گھوم پھر کر واپس اپنے ماضی میں ہمیں لے جاتے ۔ ۔ ۔
اور پھر اپنے بچپن سے لڑکپن ، لڑکپن سے جوانی ، جوانی سے بڑھاپے تک سے تمام محنت اور جدوجہد ۔ ۔
اور اپنے کارناموں کے قصے وہ سُناتے ۔ ۔ اور اس وقت ان کے اندار کا جوش اور بستر سے اوٹھ کر بیٹھ جانا۔ ۔
اور اپنی کامابیوں اور محنت پر ایک فخر اور گھمنڈ ان میں دیکھائی دیتا تھا۔ ۔ ۔
آج جاوید ہاشمی جب تقریر کر رہے تھے ۔ ۔ ۔
تو مجھے نہیں یاد وہ کیا بولے ۔ ۔ ۔
کیوں کے مجھے تو میرے نانا ہی یاد آرہے تھے ۔ ۔ ۔

جاوید صاحب بھی عمر کے اس حصے میں ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں میرے نانا تھے ۔ ۔ ۔ اُنہیں بھی خد ساختہ غلط فہمیاں ہو جایا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ اور جو ان کی سوچ میں سہی اور حقیقت ہوتی تھی ۔ ۔ ۔
سیاست سے اغتلافات سے ہٹ کر بات کروں ۔ ۔ ۔
تو شاید عمر کے اس حصے میں انسان چاہتا ہے ۔ ۔ کے لوگ اُسے سرہائیں۔ ۔ اُس کے کام اُس کی محنت کی تعریف ہو۔ ۔ ۔
اور جتنی بھی ہو اُتنی کم لگتی ہے انہیں ۔ ۔ ۔ انہیں روز اور مسلسل اس چیز کا یقین چاہیے ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کہ وہ بے وقت نہیں ۔ ۔ ۔ وہ بے بس نہیں ۔ ۔ ۔ وہ بڑے ہیں اور بڑے رہیں گے ۔ ۔ ۔ ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: