مرنے والو یہ بتلاؤ

مرنے والو یہ بتلاؤ
آخر ایسے یوں مرنے کا
مقصد کیا تھا
کس کی خاطر جان گنوائی
کس کی خاطر؟
مرنے والے!
جن کی خاطر مر جاتے ہو
وہ تو زندہ اور پائندہ
"ایناکونڈا" کی مانند ہیں
سال میں اک دو بار یہ وحشی
اپنے بل سے باہر آ کر
تم جیسے انسان پکڑ کر
کھا لیتے ہیں
پھر میڈیا کی ڈال سے لپٹے
اپنے منہہ سےجھاگ اڑا کر
پھوں پھوں کرکے
پھر دوبارہ
اپنے بل میں کھو جاتے ہیں
لمبی تان کے سو جاتے ہیں
مرنے والو!
ان کے پاس تو لمبی گاڑی
بنگلے پیسے اور تم جیسے
پیروکاروں کے جھرمٹ ہیں
لیکن اپنے گھر میں جھانکو
گھر میں کیا ہے؟
دو مرلے کے گھر کے اندر
امی.ابو.بیوی . بچے
گھر کی جانب جانے والے رستے کچے
مرنے والو!
جن کی خاطر مرتے ہو تم
ان سب کے چہروں کی لالی
دیکھ کے بہتا لہو تمہارا
اور بھی گاڑھی ہو جاتی ہے
لیکن جو ہیں گھر میں بیٹھے
امی.ابو.بیوی.بچے
ان کےہنستے کھلتے چہرے
یکدم ہی مرجھا جاتے ہیں
امی اندھی ہو جاتی ہے
ابو پر فالج کا حملہ
بیوی بیوہ ہو جاتی ہے
اور وہ پھول سے پیارے بچے
کیا بتلاؤں………….؟
بات سنو اے پیروکارو!
لڑنے والو!
مرنے والو!
تبدیلی جو لانا چاہو
انکو چھوڑو
اور اپنے ہی بل بوتے پر
محنت کرکے
بچوں کی تقدیر سنوارو
مرنے والو!
ممکن ہو تو گھر میں جھانکو….!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: