Vision

 

VISION

ہمیں معلوم ہے
شاید تمہیں بھی علم ہو
کہ
درد کا آشوب گھر کے شور میں
تنہا ئیاں تسخیر کرتا ہے
زمانے بھر کی وحشت کو
در و دیوار کی تقدیر کرتا ہے
زباں کا جبر
آنسو کے صحیفے
وقت کے افلاک پر تحریر کرتا ہے
شبیہہ دوست کو
منظر بہ منظر کوبہ کو تصویر کرتا ہے
اور اپنے آپ کو
غم کی عقوبت گاہ میں زنجیر کرتا ہے
مگر
جب بھی کبھی ان گھوراندھیروں میں
کہیں
تم مسکراتے ہو
تو بے حد یاد آتے ہو

 

ریحانہ روحی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: