دراڑیں پڑ رہی ہیں قربتوں میں رفتہ رفتہ

ضرورت سے زیادہ مہربانی ہوگئی ہے
تو گویا ختم کیا ساری کہانی ہو گئی ہے

دراڑیں پڑ رہی ہیں قربتوں میں رفتہ رفتہ
ہماری دوستی شاید پرانی ہو گئی ہے

بنا پوچھے مجھے کچھ پھول بھجوائے ہیں اس نے
اسے میری طرف سے بدگمانی ہوگئی ہے

بہت در باریوں میں گھر گئے ظلِ الہٰی
سو اب مشکوک اُن کی حکمرانی ہو گئی ہے

وہی سب سے زیادہ ظرف کا چرچا کرے گی
وہ لڑکی جو اچانک خاندانی ہوگئی ہے

کمالِ ضبط گریہ کی سند حاصل تھی جس کو
سنا ہے اب وہ پتھر آنکھ پانی ہوگئی ہے

اُسے مجھ سے شکایت تھی مجھے اُس سے گلہ تھا
ذرا سی بات بڑھ کر داستانی ہو گئی ہے

محبت میر و غالب تک تو لافانی تھی روحی
مگر یہ ہم تک آتے آتے فانی ہوگئی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: