میں اندھیرے کے مقابل اِنہیں لے آیا ہـــوں

میں سمندر ہوں، کوئی آکے کھنگالے مجھ کو
بیکراں پیار کے کوزے میں بسالے مجھ کو
میں اندھیرے کے مقابل اِنہیں لے آیا ہوں
اپنے اندر نظر آئے جو اُجالے مجھ کو
چل پڑا ہوں میں کسی منزلِ گُل کی جانب
پھول لگنے لگےاب پاؤں کے چھالے مجھ کو
ریزہ ریزہ ہوں پہ یلغار کروں تاروں پر
ایسا جھونکا کوئی آئے جو اُچھالے مجھ کو
میں گنہ کر کے چلا آؤں گا پھر دنیا میں
دیکھ لے کرکےتُو جنت کے حوالے مجھ کو
پھر مرے جسم کے تاروں کا دُوپٹہ بُن لے
پہلے کیکر کے تُو کانٹے میں پھنسالے مجھ کو
تُو گلاب اور مِرا رنگ ہے سرسوں جیسا
تُو کبھی میرے لہو سے ہی سجا لے مجھ کو
برف گرتی ہے ، تو میں اور سُلگ اٹھتا ہوں
اور پگھلاتے ہیں، یہ برف کے گالے مجھ کو
کس بُلندی پہ حزیں میری نظر جا پہنچی
کتنے بونے نظر آتے ہیں ہمالے مجھ کو
حزیں لدھیــانوی

 

 
 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: