خوش خبری

 

خوش خبری ۔۔۔۔۔۔"

پھر شہر کے مُردہ خانے میں اِک لاش آئی…
ممکن ہے کسی کا باپ ہو یہ، یا بیٹا ہو، یا بھائی ہو…
اس کے ماں باپ اور بھائی بہن…
یا پھر اس کے بیوی بچے…
جب رستہ دیکھ کے تھک جائیں…
اور اندیشے دل دہلائیں…
پھر کوئی پڑوسی بتلائے یا اور کسی کا فون آئے…
افسوس تمہارا وہ بیٹا، یا وہ بھائی یا باپ…
دھماکے کی زد میں آ کر مجروح ہوا…
اور … پل بھر میں دم توڑ گیا!!
اور … لاش ہے مُردہ خانے میں…
تب اس کے گھر کہرام مچے…
اور ماں بہنیں چیخیں ماریں…
اور باپ کا دل شق ہو جائے…
اور… بوڑھے بھی بچوں کی طرح…
منہ پھاڑ کے رونے لگ جائیں…
اور بچوں کے گلگوں چہرے…
اس بادِ سموم سے مر جھائیں…
تم ان کو خوشخبری دینا!
اور … یہ کہنا…
اے خستہ دلو! کچھ غم نہ کرو!
آنسو پونچھو! خوش ہوجائو!
دیکھو!! اخبار میں آیا ہے…
سر کار تمہیں پیسے دے گی!!

پروفیسر عنایت علی خانؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: