نظر جو شام کو دیوانا وار جاتی ہے

نظر جو شام کو دیوانا وار جاتی ہے

طواف کرنے سرِ بام یار جاتی ہے

کرشمہ سازیاں کرتی ہوئی تری خوشبو

نئے سرِے سے گلوں کو نکھار جاتی ہے

کمال کرتی ہے وہ چشم خواب پرور بھی

میانِ شب مری آنکھیں سنوار جاتی ہے

یہ بات سچ ہے تو میری سمجھ بھی آئے

کہ روشنی بھی اندھیروں سے ہار جاتی ہے

ترا ہُنر ترے قدموں بہار آئی تھی

میں کج ہُنر مرے ہاتھوں بہار جاتی ہے

یہی تو ہوتا ہے اک صبح کے نہ آنے سے

جو رات آتی ہے صدیاں گزار جاتی ہے

چلی تو جاتی ہے ا یک دن خزاں بھی گلشن سے

مگر بہار کے کپڑے اُتار جاتی ہے

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: