میرے یقین نہ تیرے گماں کی زد پر ہے

میرے یقین نہ تیرے گماں کی زد پر ہے

زمیں آزل سے اسی آسماں کی زد پر ہے

تغیرات شُنیدہ و دیدہ اپنی جگہ

یہ کائنات مری داستاں کی زد پر ہے

یہ سوچ کر میں ہر اک کہکشاں سے لوٹ آیا

یہ کہکشاں بھی کسی کہکشاں کی زد پر ہے

عدم توازن یک لمحہ موت ہے لیکن

یہ کائنات کسی مہرباں کی زد پر ہے

دیارِ جاں تجھے آسودگی ملے کیسے

کبھی مکاں تو کبھی لامکاں کی زد پر ہے

یہ سنتے آئے ہیں بچپن سے اب بھی سنتے ہیں

یہ سر زمیں کسی دستِ نہاں کی زد پر ہے

زمیں پہ ان کی کوئی بدحواسیاں دیکھے

جو کہہ رہے تھے کہ ایسی کہاں کی زد پر ہے

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: