لائے نہ راستے پہ اُسے گھر کے راستے

لائے نہ راستے پہ اُسے گھر کے راستے

پیچیدہ کفدر ہیں مقدر کے راستے

خوشبو اک آشنا سی نمیدہ ہوا میں ہے

یہ کون آرہا ہے سمندر کے راستے

اپنی مسافتوں سے نکلنے نہیں دیا

یوں مہرباں تھے کوچۂ دلبر کے راستے

اُمید کیا فلاح کی رکھیں کہ آپ تو

تکمیلِ خیر چاہتے ہیں شر کے راستے

اپنے مزاج اس کی انا کا سوال تھا

تقسیم کر لیئے ہیں برابر کے راستے

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: