رشتہء خاکداں یہیں تک ہے

رشتہء خاکداں یہیں تک ہے

جو بھی کچھ ہے یہاں یہیں تک ہے

دائروں سے نکل نہیں سکتے

رقصِ سیارگاں یہیں تک ہے

اس سے آگے کی منزلیں میری

جسم کا آستاں یہیں تک ہے

یہ بھی ممکن ہے زیرِ پا آجائے

سر پہ یہ سائباں یہیں تک ہے

صلح جوئی ہے میری مجبوی

دوستوں کا گماں یہیں تک ہے

قصہ گو کو تلاش قصے کی

اور مری داستاں یہیں تک ہے

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: