خواہشِ دلبری بھی رکھنی ہے

خواہشِ دلبری بھی رکھنی ہے

رسمِ آوارگی بھی رکھنی ہے

قربتیں جس کی راس آتی نہیں

اس سے ہم سائیگی بھی رکھنی ہے

دوستوں سے ہے رزم آرائی

جرُاتوں میں کمی بھی رکھنی ہے

صلح کرنی نہیں ہواؤں سے

صبح تک توشنی بھی رکھنی ہے

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: