خواہشِ جنت دلِ شاد میں رکھی گئی

خواہشِ جنت دلِ شاد میں رکھی گئی

کیسی حسرت کس ستم ایجاد میں رکھی گئی

کیوں بٹا  رہتا ہوں میں سیارگاں کے درمیاں

کیسی یہ فطرت مری بنیاد میں رکھی گئی

اپنی ترجیحات میں اس گھر کے بام و در کی فکر

پہلے رکھنی چاہئے تھی بعد میں رکھی گئی

جو ٹہرائی گئی وجہ فسادِ خلق

واقعہء میں تو نہ تھی روداد میں رکھی گئی

قوم کا اپنی نصیب شاعرانہ کیا کہوں

داد میں رکھی کبھی بیداد میں رکھی گئی

سچ تو یہ ہے ظالموں کو اس کا اندازہ نہیں

انقلابی فکر استبداد میں رکھی گئی

غیر ممکن ہے زمیں کا احتسابِ منصبی

زندگی اس کی تو ابرو باد میں رکھی گئی

رفتگاں ہی خیمہ زن ہیں کوئی جا خالی نہیں

کیسی آبادی دلِ برباد میں رکھی گئی

عام ہے تسخیرِ کائنات تو سب کیلئے

کامیابی صرف استعداد میں رکھی گئی

یاد صدیقیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: