اذا زلزلتے ارض زلزلہ تھا۔۔۔۔۔“

اذا زلزلتے ارض زلزلہ تھا۔۔۔۔۔“

اے میرے جنت نشین عزیزوں

ہمیں یہ دنیا بتا رہی ہے

کہ تم پہ اپنے پہاڑ ٹوٹے ۔۔۔ تمہاری اپنی چھتوں نے تم کو کچل دیا ہے

زمیں نے تم  کو نگل لیا ہے

سو مر گئے تم

یقین جانو یہ سب غلط ہے

مرے نہیں تم ۔۔۔۔ مرے تو وہ ہیں ۔۔۔ جو بچ رہے ہیں

تمہاری فرقت میں جی رہے ہیں

تمہیں خبر کیا کہ مرنے والوں کے بعد جینا

عذاب ہے ۔۔۔۔۔اور عذاب ایسا کہ جس پہ آئے

سنبھل نہ پائے ۔۔۔ وہ مرنا چاہے تو مرنا پائے

اے میرے جنت نشین عزیزوں ۔۔۔ مرے نہیں تم مرے تو ہم ہیں

یقین نہ آئے تو اپنی روحوں کو بھیج دیکھو

وطن میں ہیں جس قدر بھی آنکھیں

وہ آنسوؤں سے بھری ہوئی ہیں

تمام چہروں پہ وہ قیامت جو تم پہ ٹوٹی

بہت نمایا لکھی ہوئی ہے

لبوں کو دیکھو تو یوں لگے گا کہ مسکرائے

انہیں تو صدیاں گزر گئی ہیں

اے میرے جنت نشین عزیزوں

وہ ساری مائیں وہ ساری بہنیں بزرگ سارے وہ سارے بچے

جو تم نے چھوڑے

ہمارے ہی درمیاں بسے ہیں ہمارے ہی درمیاں بسیں گے

سبھی وسائل کو یکجا کر کے

سبھی مسائل کو حل کریں گے

یہ تمہاری امانتیں ہیں

امانتوں کو سنبھال رکھنا

ہماری تہذیب ہے پُرانی

اے میرے جنت نشین عزیزوں

یہ عہد ہم تم سے کر رہے ہیں

یہ عہد ہم تم سے کر رہے ہیں

یاد صدیقیؔ

یہ نظم  ٨ اکتوبر ٢٠٠٥ کو پاکستان میں آنے والے قیامت خیز زلزلہ پر لکھی  تھی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: