بارِ افلاک ہے مرے سر پر

بارِ افلاک ہے مرے سر پر

میری املاک ہے مرے سر پر

یہ کائناتی شکار گاہ میں ہوں

میری فتراک ہے مرے سر پر

آگہی کا جہاں ہے یا پھر

خس و خاشاک ہے مرے سر پر

کہکشاؤں نے ڈھانپ رکھا ہے

مری پوشاک ہے مرے سر پر

یہ تو جیسے کوئی اعتبار چھایا ہے

آسماں خاک ہے مرے سر پر

کس تجسس کی دسترس میں ہوں

کس کا ادراک ہے مرے سر پر

ہیں حریمین میری آنکھوں میں

خطہء پاک ہے مرے سر پر

یاد صدیقیؔ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: