میڈیا کا فروغ دیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویلنٹائن ڈے

 

میڈیا کا فروغ دیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویلنٹائن ڈے 

 

شاید آج سے پانچ چھ سال پہلے مجھے اس لفظ اور اس دن سے متعالق علم بھی نہیں تھا۔۔۔۔
مگر خیر ہو ہمارے میڈیا کی۔۔۔ اس نے اتنی آزادی حاصل کر لی ہے کہ اب باقائدہ ہمارے میڈٰیا پر ویلنٹائن ویک منایا جانے لگا ہے۔۔۔
ایک چیز جو مجھے عجیب سی الجھن میں ڈالتی ہے ۔۔۔ وہ یہ ۔۔ کہ میرے جتنے بھی جان پہچان کے لوگ۔۔۔ خواہ وہ انٹرنیٹ ،فیس بک، ہوں یا موبائل کونٹیکس ہوں۔۔۔ کوئی بھی ایسا نہیں جو ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں ، یا اس حوالے سے کوئی اچھے خیالات رکھنے والا ہو۔۔۔ ہر کوئی اس دن کو منانے سے روکنے کے پیغامات ہی سینڈ کرتا ہے۔۔۔ انٹرنیٹ پر بھی اکثریت فارمز، فیس بک پیجز پر اس دن کے خلاف بات ہو رہی ہوتی ہے۔۔۔
مگر اگر ہم اپنا ٹیوی آن کریں۔۔
تو منظر کچھ اور ہوتا ہے۔۔۔ یوں لگتا ہے۔۔۔ جیسے عید بکرہ عید،کے  بعد ایک یہ تہوار منانا بھی ہمارا اولین فریضہ ہو۔۔۔
ویلنٹائن پر کپڑے کیسے پہنیں، میک اپ ٹپس، کون سے ریسٹورنٹ اسپیشل آفرز دے رہے ہیں۔۔۔۔ کہاں کہاں کیا انتظامات ہورہے ہیں۔۔ یہ سب اس طرح دیکھایا اور بتایا جارہا ہے جیسے یہ کوئی ہمارا خاص تہوار ہے۔۔۔
میرے ذہن میں تو یہی سوال آتا ہے کہ ہمارا میڈیا آخر ہمارے معاشرے کی اعکاسی کے بجائے غیر مسلم اور غیر مہذب تہواروں ، اور چیزوں کو ہی کیوں پرموٹ کرنے پر تلا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید یہ بات سہی ہے کہ ہمارے ملک کے تمام تر چینلز ہی بلاو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں صرف پیسہ کمانے ۔۔۔ اور بیہودگی پھیلانے کا ہی کام آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی ایک چینل(ماسوائے اسلامی چینلز کے)  اس دن کے خلاف کوئی بات سننے کرنے کو بھی تیار نہیں۔۔۔
کیا ہم اتنے موڈرن ہوگئے ہیں۔۔۔ کہ اب ہمارے والدین اس چیز کے لیے ذہن بنا لیں۔۔۔
کہ اُن کی بیٹی بہن۔۔۔ کو ویلنٹائن ڈے پر ریڈ سوٹ بنا کر دینا ہے۔۔۔؟
اُسے اپنے بوائے فرینڈ کے لیے گفٹ خریدنے کے لیے اضافی پاکٹ منی دینی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اُسے کسی لڑکے کے ساتھ کسی ہوٹل میں کسی پُر فضا ماحول میں“ ڈیٹ“ مارنے جانے کی اجازت ہے؟؟؟؟؟؟؟

کوئی ایک ایسا بھائی یا باپ ہے؟ جو یہاں آئے اور کہے کے میں نے اپنی بہن کو یہ سب کرنے کی اجازت دی ہے؟؟؟؟؟
اور اگر کوئی اپنی بہن بیٹی کو اجاذت نہیں دے سکتا اُس کام کو خود کیوں کرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ہم اُس مذہب کے ماننے والے ہیں۔۔
جہاں پاکیزگی۔۔ صفائی ۔۔۔۔ کو نفس ایمان کا درجا دیا گیا ہے۔۔۔۔
اپنے آپ کو اپنے معاشرے اور ماحول کو پاکیزہ رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔۔۔
کوشش کریں کہ ہم اپنے معاشرے کی بگاڑ کا سبب نہ بنیں۔۔۔۔
کیوں کہ جن برائیوں کے بیج ہم آج بو رہے ہیں۔۔۔ وہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے تناور بنے کھڑے ہونگے۔۔۔
اپنے حصے کی ذمہداری سمجھیں۔۔۔
محبت کرنے سے کوئی نہیں روک رہا۔۔۔ ہمارا مذہب تو ہے ہی پیار محبت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کریں مگر اخلاقی اور جائز طریقوں پر۔۔۔۔۔۔
اللہ ہم سب کو جائز اور حقیقی محبتیں پھیلانے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رہنے  کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔۔۔
اور اللہ تعالیٰ ہمارے میڈیا کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس طرح کے غیر اخلاقی اور غیر مسلموں کے تہواروں اور روایتوں کو صرف پیسے کے خاطر فروغ دینے سے گریز کرے۔۔۔۔۔ لاکھوں کڑوڑوں روپے اس دن کے ایوس کما تو لیں گے ۔۔ لیکن اس پیسے سے نہ تو اُن کی قبر کا سائز بڑا ہو سکتا ہے۔۔۔ اور نا نامہِ عامال سے گناہوں کا بوجھ کم ہوگا۔۔۔۔۔

اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔

والسلام

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: