نصیب کی بات ہے

نصیب کی بات ہے

 

 

انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کرmidlife کے (crisis) اور اس سے جنم لینی والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے – اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجئے – لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے . . . اور عمل میں نا پختگی کا ثبوت دیتا ہے . . .
تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا (image) سوسائٹی میں بلکل برباد ہو جاتا ہے . . .
پے در پے شادیاں ، معاشقے. . . ، معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے درب
در کی ٹھوکریں. . . ، ماں باپ سے ہیجانی تصادم. . . ، اولاد سے بے توازن رابطہ. . . غرضیکہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے . . .
آخری تبدیلی عموماً بڑھاپے کے ساتھ آتی ہے . . . جب نہ اشیاء سے لگاؤ رہتا ہے. . . نہ انسانی رشتے ہی با معنی رہتے ہیں. . . اب اطمینان قلب صرف ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے . . . لیکن یہ بھی نصیب کی بات ہے  . . . . . .

 

از "بانو قدسیہ"

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: