کبھی بھلا کے ، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے

 

 

کبھی بھلا کے ، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے

 

کبھی بھلا کے ، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے
جمال قرض چکانے ہیں عمر بھر کے مجھے

ابھی تو منزلِ جاناں سے کوسوں دور ہوں میں
ابھی تو راستے ہیں یاد اپنے گھر کے مجھے

جو لکھتا پھرتا ہے دیوار و در پہ نام مرا
بکھیر دے نہ کہیں حرف حرف کر کے مجھے

محبتوں کی بلندی پہ ہے یقین تو کوئی
گلے لگائے مری سطح پر اُتر کے مجھے

چراغ بن کے جلا جس کے واسطے اک عمر
چلا گیا وہ ہوا کے سُپرد کر کے مجھے

 

جمال احسانی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: