جمال اب تو یہی رہ گیا ہے پتہ اُسکا

جمال اب تو یہی رہ گیا ہے پتہ اُسکا

جمال اب تو یہی رہ گیا ہے پتہ اُسکا
بھلی سی شکل تھی اچھا سا نام تھا اُسکا

پھر ایک سایہ در و بام پر  اُتر آیا
دل و نگاہ میں پھر ذکر چھڑ گیا اُسکا

کسے خبر تھی کہ یہ دن بھی دیکھنا ہوگا
اب اعتبار بھی دل کو نہیں رہا اُسکا

جو میرے ذکر پر اب قہقہے لگاتا ہے
بچھڑتے وقت کوئی حال دیکھتا اُسکا

مجھے تباہ کیا اور سب کی نظروں میں
وہ بے قصور رہا یہ کمال تھا اُسکا

سو کس سے کیجئےذکر نذاکتِ خدوخال
کوئی ملا ہی نہیں صورتِ آشنا اُسکا

جو سایہ سایہ شب و روز میرے ساتھ رہا
گلی گلی میں پتہ پوچھتا پھرا اُسکا

جمال اُسنے تو ٹھانی تھی عمر بھر کے لیے

یہ چار روز میں کیا حال ہوگیا اُسکا

جمال احسانی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: