یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی!

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی!

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی!

یا بندہ خدابن یا بندہ زمانہ

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی

شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لا الٰہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

رازِ حرم سے شاید اقبال با خبر ہے

ہیں اس کی گفتگو میں اندازِ مجرمانہ

علامہ اقبال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: