احسان عظیم

 

احسان عظیم

کسی نے پوچھا یہ احسان عظیم کیا ہے برملا دل میں آیا وہ احسان جسے احسان نہ سمجھا جائے بلکہ اپنا فرض اور اپنے رب کا حکم سمجھ کر انسان کی بھلائی کے لئے وقت پڑنے پر ایسے کیا جائے کی جس پر کیا جائے اسے احساس نہ ہو کہ اس پر احسان کیا گیا ہے کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا بلکہ اللہ اسے توفیق و اختیار عنایت فرماتا ہے تو ہی وہ کچھ کر پاتا ہے وہی بات کہ

سب کا داتا اللہ ہے
کس کا اپنا پلہ ہے

ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اﷲ کی عنایت ہے جسے اللہ کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہی رب کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا صحیح حق ادا کرنا ہے اور اگر ہم ایسا نہیں کر پاتے تو ہم ناشکرے کہلائیں گے اور یہ سمجھنا کہ ہم نے کسی کے مشکل وقت میں کسی کا ساتھ دیا ہے تو ہم نے کسی پر احسان کر دیا بلکہ اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم ایک دوسرے کے کام آ سکتے ہیں اور اس کام کو بھول جائیں جو ہم نے کیا ہے اس کا اشتہار یا نمائش نہ لگائیں ورنہ یہ احسان نہیں ظلم ہوگا اگر کسی کی دل آزاری کا باعث بنا تو لہذا جو بھی کریں رب کا حکم اور رب کا احسان سمجھ کر کریں.

اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق عنایت فرمائے آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: