دُکھ

دُکھ

“ اللہ تعالیٰ“ جس کو اپنا آپ یاد دلانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ اسے دُکھ کا الیکٹرک شاک دے کر۔۔۔ اپنی جانب  متوجہ کر لیتا ہے۔۔۔۔ دُکھ کی بھٹی سے نکل کر انسان دوسروں کے لیے نرم پڑ جاتا ہے۔۔۔ پھر اس سے نیک اعمال خود بخود  ۔۔۔ اور بخوشی سرزد ہونے لگتے ہیں ۔۔۔ دُکھ تو روحانیت کی سیڑھی ہے۔۔۔ اس پر صابر و شاکر ہی چڑھ سکتے ہیں۔۔۔۔“

بانو قدسیہ کی کتاب  “ دست بستہ“ سے اقتباس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: