یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ۔۔

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ۔۔ کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے ۔۔ اُسے چُپکے چُپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا، جو گلے مِلو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے مِلا کرو
کبھی حُسن پردہ نشین ہو تو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کر چلا کروں، میرے ساتھ تم بھی چلا کرو
مجھے اِشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سُنا کرو، جو سُنا نہیں وہ کہا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نذر کا کوئی اثر نہ ہو
اُسے اِتنی گرمئ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد شام میں جو اُداس پیڑ کے پاس ہو
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے، اِسے آنسوؤں سے ہرا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں، کوئی آئے گا، کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دِل سے بُھلا دیا اُسے بُھولنے کی دُعا کرو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: