فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور تم اپنے پروردیگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔

(القرآن)

اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔۔۔ کریم ہے۔۔۔ یہ بات ہم ہمیشہ ہی مانتے ہیں۔۔۔ اللہ کا رحم ۔۔ اللہ کا کرم ۔۔۔ ہمارے چاروں اطراف پھیلا ہوا ہے۔۔۔ ہم لوگ ہی ہیں ۔۔۔ جو اپنی نظروں کو اللہ تعالیٰ کی عطاعت سے پھیرے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ ورنہ ہم غور کریں ۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کے کرم اور۔۔ اس کی رحمتوں کے بوجھ تلے ہم اپنے آپ کو کتنا دبا ہوا۔۔۔ کتنا گرا ہوا محسوس کریں۔۔۔ کہ ہم اس رب کی عطاعت۔۔۔ اور اس کی رحمتوں کے بدلے صرف پانچ وقت کی نماز بھی نہیں پڑھ پاتے ۔۔۔۔

پرسوں سے ایک ایس ایم ایس بار بار موصول ہو رہا تھا۔۔ جس میں یہ بتایا جارہا تھا۔۔ کہ چھ جون کو سورج اور زمین کے بیچ وینز سیارہ آجائےگا۔۔۔ کیوں کے وینز خود ایک بہت گرم ترین سیارہ ہے۔۔۔ اور وہ سورج کے سامنے سے گزرے گا۔۔ ۔ تو ہماری زمین تک بہت خطرناک شعاعیں خارج کرے گا۔۔۔ جو کے ہمارے لیے بہت نقصانداہ ثابت ہوسکتی ہیں۔۔۔۔۔

ان میسجز کی تضدیق کے لیے انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کی ۔۔۔ تو یہ میسجز سہی ثابت ہوئے۔۔ ۔ کیوں کے وینز کے سورج کے درمیان آنے کا منظر دیکھنے سے آنکھیں خراب ہوسکتی تھیں۔۔۔ اور اسکن کے لیے بھی پرابلمز کی پیشنگوئیاں تھیں۔۔۔

خیر کل رات یہ تاریخی منظر دیکھنے کے شوق میں نیند تو اوچاٹ ہو ہی گئی تھی میری۔۔۔ کوئی ساڑھے تین بجے کے قریب ۔۔۔ جب ٹی وی پر یہ منظر دیکھانا شرو ع کیا گیا۔۔۔ تو اس اشتیاق میں کہ ہمارے ہاں بھی جلدی سے سورج نکلے ۔۔۔ اور ہم بھی دیکھیں کہ آخر کیسا منظر ہوگا۔۔۔۔ کیوں کہ یہ منظر ہمارے ہاں۔۔۔ فجر کے بعد جب سورج نکلتا تبھی دیکھائی دینا تھا۔۔۔۔انتظار میں رات بھر جاگ کر ۔۔ جیسے ہی فجر ہوئی۔۔۔ تو نماز کے بعد آسمان پر روشنی نمودار ہونا شروع ہوئی۔۔۔تو منظر یہ تھا۔۔۔ کہ ہمارے رب نے ۔۔۔ اپنے رحمت ۔۔۔ اپنے کرم ۔۔۔ کے سائے ہمارے سرو ں پر ڈالے ہوئے تھے۔۔۔۔ صبح سے ہی اتنا ابر رہا۔۔۔ کہ سورج کی خطرناک کرنیں ہماری طرف کیا آتیں۔۔۔۔ سورج ہی دیکھائی نہیں دیا کہیں۔۔۔۔۔

سورج کے سامنے وینز آنے کا منظر تو اللہ تعالیٰ کے کرم کی بدولت۔۔۔ ہم نے ٹیوی پر شروع سے اینڈ تک دیکھ لیا۔۔۔ لیکن ہمارے رب نے سورج کی ان خطرناک شعاعوں سے ہمیں ۔۔۔ آسمان پر بادل بچھا کے بچا لیا۔۔۔

یقینا یہ ہمارے رب کی ہم سے محبت ہے۔۔ اُس کی عطا ہے۔۔۔ اُس کا کرم ہے ہم پر۔۔۔۔ کیوں کہ وہ تو ہم نا شکروں کو۔۔ ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے۔۔۔۔ اُس نے ہماری زندگی کے ایک یادگار ۔۔۔ منظر کو ہمیں دیکھا بھی دیا۔۔۔ اور اُن خطرات سے بھی بچا لیا۔۔۔۔ جن سے سائنسدان ہمیں ڈرا رہے تھے۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہماری نظروں کو اتنی بینائی عطا فرمائے۔۔۔ ہماری ذہنوں کو اتنی وسعت عطا فرمائے کہ ہم اُس کے کرم۔۔۔ اُس کی نوازشوں کو سمجھ سکیں۔۔۔ محسوس کر سکیں۔۔۔ اور اپنے رب کا شکر ادا کر سکیں۔۔۔۔اُس طرح سے اپنے رب کی عطاعت کر سکیں۔۔۔ جیسا وہ ہم سے چاہتا ہے۔۔۔۔ آمین

والسلام

تحریر : ساریہ صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: