شیطان

 

شیطان

ایک عالی شان پلازا کے سامنے۔۔۔۔ شیطان کھڑا زاروقطار رورہا تھا۔۔۔۔ اور کہہ رہا تھا کہ۔۔۔۔ انسان بہت احسان فراموش مخلوق ہے۔۔۔ ایک راہ گیر نے شیطان کو آہ و زاری کرتے ۔۔۔۔ اور انسان کو برا بھلا کہتے دیکھا ۔۔۔۔تو وہ رک گیا ۔۔۔۔ اور اس نے شیطان سے اس کی وجہ پوچھی۔۔۔ شیطان نے کہا۔۔۔
"کروڑوں روپے مالیت کا یہ پلازا دیکھ رہے ہو۔۔۔؟" حاجی خدا بخش نے یہ پلازا۔۔۔۔ میرے مشوروں پر عمل کے نتیجے میں حاصل شدہ سرمائے سے تعمیر کیا ۔۔۔۔ مگر جب یہ پلازا مکمل ہوگیا ۔۔۔۔تو میرا شکر ادا کرنے کی بجائے ۔۔۔۔ اس کی پیشانی پر موٹے لفظوں میں۔۔۔۔
"ھذا من فضل ربی" لکھوایا۔۔۔۔
راہ گیر نے۔۔۔  "ھذا من فضل ربی"  پر ایک نگاہ ڈالی ۔۔۔۔ باآواز بلند پڑھا۔۔۔۔  اور آگے چل دیا۔

 

عطاء الحق قاسمی “ کی کتاب“  ہنسنا رونا منع ہے“  سے اقتباس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: