تحکم

 

تحکم

انسان کو غالباً سب سے زیادہ تحکم کا شوق ہے۔۔۔ وہ دوسروں پر کبھی خوشامد۔۔۔کبھی سزادے کر۔۔۔ اپنی انا کو پہچانتا رہتا ہے۔۔۔ تحکم زیادہ ہوتا چلا جائے ۔۔۔۔ تو خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔۔ دوسروں کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے مواقع کم ہوں۔۔۔ تواحساسِ کمتری بھڑنےلگتا ہے۔۔۔ مذہب۔۔۔قانون ۔۔۔ ماں۔۔۔۔ باپ ۔۔۔ استاد ۔۔۔۔ رسم۔۔۔۔ و۔۔۔۔رواج۔۔۔۔ کسی قسم کی بھی اطاعت ہو۔۔۔۔تو انسان تابع کی حیثیت میں فیصلےکرتا ہے۔۔۔ اسے فیصلوں کے لیے اپنے اند کے بجائے۔۔۔ باہر کی آواز حق پر اعتماد کرنا پڑتاہے۔۔۔ ماننے والے پر سے ۔۔۔۔ فیصلے کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے۔۔۔ اس بوجھ کے اٹھرے ہی۔۔۔۔ وہ صاحبِ اختیار بھی نہیں رہتا ۔۔۔۔ اور اسی لیے اپنے پر بھروسہ کرنا ۔۔۔ اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ترقی کے لیے اپنے فیصلے پر اعتماد کرنا انتہائی اہم ہے۔۔۔ اسی خد اعتمادی کے سہارے مغربی معاشرے میں ترقی کا پہیہ جام نہیں ہوتا۔۔۔۔

بانو قدسیہ کی کتاب”حاصل گھاٹ” سے اقتباس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: