عید گاہ

عید گاہ . . . . “

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد. . .  آج عید آئی.  .  کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے. . . بچہ کی طرح پر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے. . .  کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ ۔ ۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے. . .  آج کا آفتا ب دیکھ کتنا پیارا ہے . . . گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے. . .  گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ ۔ ۔  عید گاہ جانے کی دھوم ہے کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ ۔ ۔  کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔  اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ ۔ ۔  جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ ۔ ۔  عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ ۔ ۔  تین کوس کا پیدل راستہ پھر ۔ ۔ ۔ سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ ۔ ۔  دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ ۔ ۔ ۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ ۔   کسی نے ایک روزہ رکھا ، وہ بھی دوپہر تک ۔ ۔ ۔  کسی نے وہ بھی نہیں۔ ۔ ۔  لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ ۔ ۔  روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے، بچوں کے لیے تو عید ہے۔ ۔ ۔  روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آگئی۔ ۔ ۔  اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ ۔ ۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ۔ ۔ ۔ ؟ سویّوں کیلئے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں۔ ۔ ۔  یا نہیں۔ ۔ ۔  اس کی انہیں کیا فکر۔ ۔ ؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بدحواس گاؤں کے مہاجن چودھری قاسم علی۔ ۔ ۔  کے گھر دوڑے جا رہے ہیں۔ ۔ ۔  انکی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔  بار بار جیب سے خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ ۔ ۔ دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ۔ ۔  ان ہی دو چار پیسوں میں دُنیا کی سات نعمتیں لائیں گے۔ ۔ ۔  کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔ ۔ ۔  سب سے زیادہ خوش ہے ‘حامد"۔ ۔ ۔  وہ چار سال کا غریب صورت بچہ ہے۔ ۔ ۔ ۔  جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا۔ ۔ ۔  اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔ ۔  کسی کو پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ کہتی کس سے۔ ۔ ۔ ؟ کون سننے والا تھا۔ ۔ ۔ ؟ دل پر جو گزرتی تھی۔ ۔ ۔  سہتی تھی۔ ۔ ۔  اور جب نہ سہا گیا تو۔ ۔ ۔  دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ ۔ ۔  اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔  اور اتنا ہی خوش ہے ۔ ۔ ۔ ۔  اس کے ابا جان بڑی دُور روپے کمانے گئے تھے۔ ۔ ۔  اور بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے۔ ۔ ۔  امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ ۔ ۔ ۔  اس لیے خاموش ہے۔ ۔ ۔ ۔  حامد کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔  سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے۔ ۔ ۔  پھر بھی وہ خوش ہے۔ ۔ ۔  جب اس کے ابّاجان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گے۔ ۔ ۔  تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ ۔ ۔ ۔  تب دیکھے گا کہ محمود اور محسن آذر اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔  دُنیا میں مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے۔ ۔ ۔ ۔  اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کےلئے کافی ہے۔ ۔ ۔ ۔

(منشی پریم چند کی تحریر سے اقتباس)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: