پہلے دروازے پھر مکان کُھلے

 

پہلے دروازے پھر مکان کُھلے ۔۔۔۔"

 

پہلے دروازے پھر مکان کُھلے

پھر مکانوں کے پاسبان کُھلے

 

اپنی خاموشیوں میں پنہاں تھے

لوگ باتوں کے درمیان کُھلے

 

کوئی پتھر پڑا تھا بیری پر

پھر محلے میں خاندان کُھلے

 

مصلحت کی یہ زندگی کب تک

دیکھئے کب مری زبان کُھلے

 

میری تکذیب ہی میں کچھ بولے

کچھ تو مجھ سے وہ بدگمان کُھلے

 

اُس نے پلکیں اٹھا کے یوں دیکھا

جیسے کشتی کے بادنان کُھلے

 
 
تسلیم الہٰی زلفی ؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: