دھرتی سے

 

دھرتی سے آسماں کا تعلق نہیں رہا۔۔۔"

دھرتی سے آسماں کا تعلق نہیں رہا

سائے سے سائباں کا تعلق نہیں رہا

یہ عشق بھی عجیب ہے ‘ حالت عجیب تر

جیسے بدن سے جاں کا تعلق نہیں رہا

ایسی عجب ہوا چلی ساحل کے آس پاس

کشتی سے بادباں کا تعلق نہیں رہا

احباب کے خیال سے بولا جو پہلا جھوٹ

پھر دل سے اس زباں کا تعلق نہیں رہا

یہ خطِ  مستقیم تھا ‘ وہ نیم دائرہ

یوں تیر سے کماں کا  تعلق نہیں رہا

میرا مزاج اور تھا ‘ اُس کا مزاج اور

یوں میرا خانداں سے تعلق نہیں رہا

زلفیؔ تلاش کی جو مکاں سے مکانیت

مجھ سے مرے مکاں کا تعلق نہیں رہا

تسلیم الہٰی زلفیؔ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: