عشق ہی پھیلا ہوا ہے

 

 

عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک

حسن کیا ہے بس یہی نا ‘ زُلف سے زنجیر تک

کون جانے کب سیاہی پھیل جائے آنکھ میں

اور ہوا لے جائے کاغذ سے مری تحریر تک

زندگی جب ختم ہونے جارہی تھی تب کھلا

میں ہی پھیلا ہوا تھا خواب سے تعبیر تک

کب تلک احساس کا مجرم بنا بیٹھا رہوں

مرحلے کتنے ہیں آخر جرم سے تعزیر تک

یہ نہ ہو ترتیب دے لوں زندگی کو پھر سے میں

نوچ کر لے جاؤ دل سے ، خواہش تعمیر تک

دل لہو ، چہرہ دھواں ، آنکھیں سپردِ رہ گزر

ایک جیسا سلسلہ ہے مجھ سے لے کر میر تک

 

شمیم روش

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: