زمین اپنی تراشو

 

زمین اپنی تراشو اور آسماں اپنا

پرائے خواب سے بنتا نہیں جہاں اپنا

مجھے تو اُڑتی ہوئی خاک بھی بتا نہ سکی

کہ میں نے پھونک دیا کس لیے مکاں اپنا

تمہیں گماں ہے کہ میں ساتھ چل نہ پاؤں گا

تو پھر سنبھال کے رکھو نہ یہ گماں اپنا

یہ چند لمحوں کی ساری کہانیاں ہیں ، سنو

نہ دھوپ اپنی یہاں ہے نہ سائباں اپنا

خود اپنے ہاتھوں ہوا کے سپرد کر دوں گا

چمن اُجڑنے سے پہلے میں آشیاں اپنا

نہیں کہ اب کوئی چہرہ نہیں رہا لیکن

ہمیں تو اب بھی نہیں مقصود امتحاں اپنا

 
 
شمشم روش

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: