اک نادیدہ سی روشنی کی طرف

 

اک نادیدہ سی روشنی کی طرف

لوٹنا سب کو ہے اُسی کی طرف

اک قدم اور موت کی جانب

اک قدم اور زندگی کی طرف

جب سے دیکھا ہے آئینہ میں نے

آنکھ اُٹھتی نہیں کسی کی طرف

خواب کے سلسلے کہاں ٹوٹے

دھیان رہتا ہے خواب کی ہی طرف

اپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے

دیکھتا ہوں اگر کسی کی طرف

میری آنکھوں میں اب اندھیرا ہے

میں نے دیکھا تھا روشنی کی طرف

کھینتے ہیں یہ آسمان و زمیں

لمحہ لمحہ روش اسی کی طرف

 
 
شمیم روش

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: