آسماں دیکھ

 

آسماں دیکھ کتنا کالاہے

کوئی طوفان آنے والا ہے

اک اُجالا حدیثِ غم کے لیے

رات کی آنکھ سے نکال ہے

ایسا لگتا ہے آنسوؤں کو مرے

قطرہ قطرہ کسی نے پالا ہے

ہاتھ رکھتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

دل ہے سینے میں یا کہ چھالا ہے

دیکھ اب ایسی ویسی بات نہ کر

میں نے مشکل سے دل سنبھالا ہے

میں نے تنہائیوں کے سانچے میں

کتنی مشکل سے خود کو ڈھالا ہے

میرے چہرے پہ کیا نہیں لکھا

وہ بڑا رحم کرنے والا ہے

 

شمیم روش

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: